*غنیم کا آخری حربہ* By Salar Khan

Created on Monday, 07 August 2017 13:02 | 1092 Views
  • Print
  • Email

akhri harba by salar khan

خواتین کی ہم ہمیشہ سےعزت کرتے آئےہیں اور ایک دو متصادم واقعات کی وجہ سے تو اب عزت بھی بہت دور سے کرتے ہیں. المیہ کچھ ایسا ہے کہ جیسے عدالت میں جج، گھر میں بیوی اور ہسپتال میں ڈاکٹر بلا مقابلہ ہمیشہ صحیح ہوتے ہیں ویسے ہی آج کل ہمارے معاشرے میں صنفِ ناذک کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتی. حقوقِ نسواں کے ہم ہمیشہ سےعلی الاعلان حلیف رہے ہیں لیکن آج کل خاتون کارڈ کا صریحاً غلط استعمال اور بلیک میلنگ کا ٹرینڈ کچھ زیادہ ہی زور پکڑ رہا ہے. کچھ جینون کیسز کے علاوہ کئی بارمخصوص خواتین کی طرف سے چوری اور سینہ زوری کے واقعات کا میں خود چشم دید گواہ رہا ہوں. مزید افسوس تب ہوتا ہے جب ایسے مواقعوں پر مرد حضرات کی ایک کثیر تعداد بھی روایتی بھائی چارے کو لات مار کر گواہِ چست بن کر آپکی سرزنش کرنے پہنچ جاتے ہیں، درپردہ وجوہات سے ہم سب واقف ہیں.زرا سی چوں چراں ہوئی تو چاروں سمت سے مجاہد جاگ اٹھتے ہیں اور آپ کے خلاف اجتماعی تبراء شروع ہو جاتی ہیں. کوئی یہ نہیں پوچھیگا کہ بھائی تصادم ہوا کیوں، کوئی سیاق و سباق، حوالہ متن کچھ بھی جانے بغیر تمام عوام رضاکارانہ طور پر غیرت مند بھائی بن جاتے ہیں اور آپکو چھٹی کا دودھ یاد دلانے پہ تُل جاتے ہیں. مشہور کہانی سے اقتباس کہ اگرآپ پارک میں لیٹے ہوں اور کوئی پری وش آپ پہ ہونڈا سوک چڑھا دے تب بھی عوام کہیگی کہ جاہل آدمی قصور تمہارا ہی ہے، جب تم نے دیکھا بھی کہ بے بی ڈرائیو کر رہی ہیں تو تم گھر سے نکلے ہی کیوں. تمہیں ٹکر مارتے بے بی کے چہرے پہ موجود پانچ کلو کے میک اپ میں دراڑے پڑ گئیں اور پندرہ ہزار کا نقصان ہو گیا. یعنی اب آپ ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ Harassement کا کیس بھی جھیلو، معافی تلافی کی کاوش بھی کرو اور اسکے بعد بھی شاید یہ جرم آپکے نامہِ اعمال میں رہتی دنیا تک لکھا، پکارا اور یاد دلایا جاتا رہے گا.

قصہ کوتاں صنفِ نازک کے مزاج شریف اگر آپکے خلاف ہوئے تو صورتحال کچھ ایسی نازک ہوجاتی ہیں کہ ظالم معاشرے کا ہر فرد قومی غیرت و حمیت سے لبریز، حقوقِ نسواں کے الم بردار اور خطرناک فتووں سے لیس مولانا ڈیزل بن جاتے ہیں اور آپکو سنگسار کرنے کے درپے ہوتے ہیں. کوئی پوچھے که خود تو تم پی ٹی وی کی بلیک اینڈ وائیٹ زمانے کی شدید باپردہ ننجا آنٹیز کو تاڑنے سے باز نہیں آتے ہم معصوموں پہ الزامات کے فلبدیع ڈرون حملے؟ لیکن نہیں حضرت، مظلوم و محکوم بنتِ حوا نے کہہ دیا کہ آپ نے اسے ہراساں کیا ہے تو پھر کیا ہے، آپ سے تخلیے میں سلام دعا کرنے کی خطا سرزد ہی کیوں ہوئی

پھر چاہے آپ الٹا لٹک جائیں، زمین کا سینہ چیر دیں، سمندر میں آگ لگا دیں یا آسمان سے گواهی کے لیے حساب پہ معمور فرشتے اتار دیں کسی نے آپکی بات نہیں سننی خود چاہے وہ اخلاقیات کے مفتی قوی ہی کیوں واقع نہ ہوئے ہوں. محکمہِ ٹھرک کے بائیس گریڈ کے افسر بھی آپ پہ لعن طعن میں بڑ چڑھ کر حصہ دار بنینگے.

اب عمران خان اور گلالئی کا کیس ہی دیکھ لیں، ایک بندے نے کرکٹ کی دنیا فتح کی، ورلڈ کپ جیتا، شوکت خانم ہسپتال جیسا معجزہ کر کے دکھایا، ایک سیاسی پارٹی اور ایک نظریے کی بنیاد رکھی اور اسے بلندیوں تک پہنچایا، پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان ہیں، بین الاقوامی فلم اور دیگر شعبہ جات کے سوپر سٹار ان سے آٹو گراف لیتے ساتھ تصویر کھنچواتے، دوسری طرف وہ محترمہ جن کی پوری زندگی کی کل جمع پونجی تحریک انصاف کی ہی دی ہوئی ایک سیٹ ہے، جو اس سے پہلے چار سال میں تین پارٹیاں تبدیل کر چکی، حال مخدوش، ماضی داغدار اور مستقبل سوالیہ نشان ہے وہ اس والد کے ہمراہ خان پہ گھٹیا الزامات لگا رہی ہیں جن کی غیر اخلاقی سرگرمیاں پورے بنوں ڈسٹرکٹ میں لاثانیت کی حیثیت رکھتی ہیں؛ لیکن نہیں، تماش بین قوم تالیاں بجا رہی ہے، میڈیا مجرے کرا رہا ہے اور عوام کا خون چوسنے والے اخلاقی پستی کی بدترین سطح پہ فائز چور لٹیرے حکمران پیسے پھینک رہے ہیں اور پُر رونق مجرا جاری ہے.

کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ بی بی آپ نے چھ دن کے دس انٹرویوز میں دو سو بیانات بدلے، کیوں جھوٹ بول رہی ہیں. جس ڈیلیگیشن کو آپ بنی گالہ واقعات میں اپنا گواہ بتاتی ہیں وہ سب تو آپ کو جھوٹا کازب قرار دے چک ہیں. آپکا کرپشن کا واویلا نہ صرف ساتھی ایم پی اے اور ایم این اے ڈرامہ قرار دے چکے ہیں بلکہ آپکا اپنا پولیٹیکل ایڈوائزر آپکے خلاف کرپشن چارجز بمعہ ثبوت سامنے لا چکا ہے. شادی کی آفر آپنے کی، سیٹ اپنے مانگی اور جب سارے حربے ناکام گئے پھر سینے سے لگائے چار سال پرانے میسجز بھی دکھانے سے قاصر ہیں.

کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ جھوٹے اخلاقیات کا یہ پلندہ نشریاتی اداروں کا وہ ناسور جیو پھیلا رہا ہے جس کی وجہِ تشہیر ہی پاکستان کی بقاء و سالمیت کے خطرے کی گردان ہے. جو ہمارے گھروں میں بھارت کی وہ "ڈرٹی پکچر" پہنچاتا ہے جس کوخود بھارت بھی بوجہِ شرم کلعدم قرار دے چکا ہوتا ہے-

کسی کے کان کھڑے نہیں ہوتے جب گلالئی نواز شریف جیسے شخص کو خاندانی قرار دیتی ہے جس کاپورا خاندان بوجہِ لوٹ مار اس وقت عدالت اور اڈیالہ کے بیچ ڈول رہا یے اور جس کی بد قماشیت اور عریانیت کو عام عوام تک پہنچانے کے لیے باقاعدہ ایک کتاب "پارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک" لکھی گئی

کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ جن خواتین کو گلالئی زبردستی اپنی صف میں لاکھڑا کرکے ان سے خان کے میسجز منسوب کر رہی تھی وہ سب تو خان کے دفاع میں گلالئی کے تھرڈ کلاس، براگندہ اور ناکام خودکش حملے کے خلاف کھڑی ہیں

ماں بہن سب کی سانجھی ہوتی ہیں اور عزت و دستار پہ سر کٹانے والی مثالیں رہتی دنیا تک ہمارے دم سے ہی قائم رئینگی لیکن جزباتیات میں ہمیں ایسا بھی اندھا نہیں ہونا چاہیے کہ اس تمام واقعے کے سیاسی اور صرف سیاسی پس منظر، ٹائمنگ اور حکمرانوں کی حالیہ فرسٹریشن کو نظر انداز کردیں. شریف خاندان کے ڈوبتے ٹائٹینک کو گلالئی وہ تنکا ہے جس میں وہ اپنی اور اپنی شہنشاہیت کی بقاہ دیکھ رہے ہیں.

خان دھونس، دھمکیوں، تیروں اور تلواروں سے نہیں ڈرا تو اب اسکا شکار ہمیشہ سے آزمودہ نسخہ عورت کے آنسووں سے کیا جا رہا ہے. لیکن قوم نے اب غنیم کا یہ آخری وار بھی ناکام بنانا ہے. ہمیں یہ محاصرہ بھی توڑنا ہوگا، عمران خان آخری گیند تک لڑنے والا کھلاڑی ہے وہ قوم کے لیے کھڑا رہے گا، امتحان قوم کا ہے کہ وہ سیاسی اضطراب کے اس امتحان میں اپنے سیاسی ایقانات پہ قائم رہے اور شریفوں کی سوچی سمجھی سکرپٹڈ بہتان تراشی کو یکسر مسترد کردے.

کیس اب عدالت جائے گا اور گلالئی تمام مبینہ پیغامات اضافے، تحریف اور ترمیم کے بغیر پیش کرنے کی پابند ہونگی. فورینزک ریپورٹ سے بہت جلد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا. ہم نے البتہ نمرود کی آگ پہ اپنے حصے کا قطرہ پانی گراتے رہنا ہے، خان کا ساتھ دینا ہے اور خان کے ساتھ غنیم کے اس آخری حربے کے خلاف ڈٹے رہنا ہے تاکہ وہ قومی بیداری، انصاف اور عوامی حقوقکی یہ تحریک اپنی منزلِ مقصود تک پہنچا کر پاکستان بچا سکیں اورنیا خوشحال پاکستان بنا سکیں، انشاءاللّہ العظیم!