Aasaib Zada Jamhooriat - Insaf Blog | Pakistan Tehreek-e-Insaf

 

 پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ یہ وہ جملہ ہے جو تقریباً ہر پاکستانی اپنے بچپن سے سنتا رہا ہوگا۔ مگر وہ نازک ترین دور آج تک گزر ہی نہی رہا۔ آخر کیوں؟
اس سوال کے جواب کی کھوج میں دو وجوہات تک پہنچ سکی
اگر یہ سچ ہے تو کبھی نا کبھی نازک ترین دور گزر چکا ہوتا۔ حیرت ہے یہ کمبخت گزر کے نہی دیتا یا اس نازکی دور کی کھچڑی خود پکائی جاتی ہے اور ایندھن  مُلکِ خداداد کی عوام ہے۔ جسکی دعوت عام چند قانون سے بالاتر قوتوں تک محدود ہے۔
یہ دور صرف تب ہی کیوں نازک ہوتا جب پاکستان کی بجائے اسکو نوچنے والے مشکل میں ہوں۔
مطلب دور نازک ہو یا نا ہو ایک خاص مقدس طبقے کے انٹرسٹ زِچ نا ہونے پائیں۔ جونہی اِن مٹی سے بنے خُود ساختہ خداوں کی خدائی کو للکار پڑے سب کچھ تہس نہس کردیا جاتا ہے۔
قانون کی پہنچ اس اچھوتی مخلوق تک ممکن ہی نہی۔
ستر سال عوامی اور آمر حکومت کے درمیان رسہ کشی جاری رہی بل آخر 2008 مین عوامی حکومت والے جیت گئے دوسری طرف سے اسکا بارہا اعتراف ہوچکا ہے۔ سونے پہ سہاگا پچھلی ایک دیڑھ دہائی سے تو جمہوریت کے حق میں برملا صد بھی بلند کی جاتی ہے۔ ایسی توانا صدا کہ مجھ جیسے کم عقل سمجھین کہ جمہوریت کو کسی تیسری____ قوت سے خطرہ ہو۔
مگر کہنے اور کرنے میں آج بھی اتنا ہی تضاد ہے جتنا ساٹھ اور اَسی کی دہائی کے شروع اور نوے کی دہائی  کے اختتام پر تھا۔ لیکن جدید دور کے بدلتے تقاضوں کے پیشِ نظر اقتدار پر قابض قوت نے جمہوریت کا کیموفلاج اوڑھ لیا تھا۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔اس ضرب المثل کو درست بھی تو ثابت کرنا تھا۔ اسکے لیے ٹنڈی جمہوریت چاہی تھی۔ جسکا خانہ بینظیر کے بعد پی پی اور ن لیگ نے باخوشی پر کردیا۔ بیک وقت وہ دست وگریبان ہو کر سندھی اور پنجابی کارڈ بھی کھیلتے اور ساتھ مین صاحب اقتدار پر جمہوریت کا کیموفلاج چڑھا کر اپنا حصہ ڈاکار لیتے۔ جونہی اِدھر اُدھر سے خطرہ محسوس ہوتا تو فورا جمہوریت کی چھتری تھام کر خوب ٹسوے بہانے لگتے۔ بس یونہی رومانس، اٹھکھیلیوں،دکھاوے اور مفادات کی نوک جھونک میں ہنسی خوشی زندگی کٹ رہی تھی۔
پھر ایک مرد مجاہد میدان میں اترا جس کی ہیبت تھی کے میدان میں کھڑے ہرشخص کو اپنا وجود چھوٹا دیکھنے لگا۔
مذہب سے لے کر عورت تک ہر کارڈ کھیلا گیا کہ اس شہسوار کو مقابلے سے پہلے ہی گرا دیں اور بازی بنا کھیلے ہی ہمارے نام ہوجائے۔
ہوتا تو وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ بس اسے مقابلہ جتنا تھا اور وہ سرخرو ہوا۔ اسکی جیت تو واضح نہ تھی مگر اس مبہم جیت نے قوم کو ایک غیر مبہم حقیقت سے روشناس کروا دیا۔ بہت سے ناسور جو باطن کو کھوکھلا کررہے تھے رسنے لگے۔ گویا کہ مرض کی تشخیص ہوگئی۔ آنکھوں دیکھا حال تھا کبھی اخلاقیات کا جنازہ نکلا تو کبھی انسانیت تڑپی۔ محب الوطنوں کے حصے آتی غریب الوطنی بھی دیکھی۔ قیامت تو تب ٹوٹی جب نیروبی سے قطر اور قطر سے اسلام آباد ائیر پورٹ پر اس قوم کا زخموں سے چور دل سبز پرچم میں لپیٹ کر پہنچا۔
یہاں تک کس نے رُکنا تھا اس قوم کے مسیحا پر گولیاں تک برسائیں گئیں۔ کوئی حد نہ رہ گئ تھی جو پار نہ کی ہو۔ 
ایک تہجد گزار ماں کے ساتھ جو کیا اسکے بعد تو ہماری آنے والی نسلیں دوسری قوموں کے سامنے اس تاریخی کالک کو لے کر سر جھکا کر جئیں گی۔ 
ہر ذی شعور اب جان چکا ہے۔ مسئلے کی جڑ کہاں ہے۔ یہ بات تو طے ہے علاج کرنے کے لیے کوئی طبیب نہیں آئے گا۔ مریض کو خود ہمت کرنا پڑے گی۔ 
لیکن وقت کے ریت تیزی سے پھسلتی جارہی ہے۔ اس سے پہلے کہ مٹھی خالی رہ جائے طبیب تک پہنچنا ہے۔ ظلمت کی سیاہ رات میں اپنے طبیب کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ وہ ہے تو علاج ہوگا۔
پندرہ جولائی 2016 ایک شاندار دن تھا جب ترکی کی عوام نے اپنے مستقبل کی حفاظت کی۔ زندہ قومیں ہمیشہ تاریخ دان کے قلم میں باوقار لفظوں کا حصہ پاتیں ہیں۔ ان کی آنے والے نسلیں سینہ تان کر اپنے جد کے معرکے بیان کرتیں اور اپنی میراث کی حفاظت کے لیے محنت کرتی ہیں۔
پاکستان بنانے والوں نے اسے اس لیے نہیں بنایا تھا کہ یہ دوسری قوموں کے اشاروں پر چلے بلکہ اِسے دنیا کو اپنے اشاروں پر چلانا تھا۔ بس اتنا سا خواب تھا۔ سر جھکا کر یس باس کہنے والے لیڈر نہیں ہوتے۔ پاکستانی قوم کو بھی ایسے ہی لیڈر کی ضرورت ہے جو نو اور یس اپنی قوم کے مفاد میں کہے جسکا وژن نظریہ پاکستان ہو، جسکی زبان پر لا الہ الا اللہ ہو اور ہاتھ میں قوم، مذہب اور فرقے سے مبرہ انصاف کا ترازو ہو۔