پاکستان تحریک انصاف کے کامیاب 3 سال | Pakistan Tehreek-e-Insaf
3 Successful Years of PTI - Insaf Blog

 

عمران خان نے 3 سال قبل اگست کے مہینے میں اپنی 22 سالہ جدوجہد کے بعد ملک کے 22 ویں وزیراعظم منتخب ہوئے اور آج ہی کے دن یعنی  8 اگست کو انہیں عہدہ سںنبھالے 3 سال مکمل ہورہے ہیں۔ان 3 سالوں میں ٹی آئی کی حکومت نے جو کامیابیاں حاصل کیں وہ ملک کی 72 سالہ تاریخ میں ممکن نہیں ہو سکی۔

جب تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آئی تو ملک مالی طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا۔ معیشت تباہ ہو چکی تھی اور ملک قرضوں میں گھیرا ہوا تھا۔لیکن عمران خان اور ان کی ٹیم نے قوت جوئی کے ساتھ ان مشکلات کا سامنا کیا اور آج الحمد اللہ ملک فلاحی ریاست بننے کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔معاشی معاذ پر ترقی کا جو حکومت نے دعویٰ کیا تھا وہ بہترین سمت میں ہے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ جبکہ تجارتی خسارہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔پاکستان کی درآمدات میں کمی جبکہ برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔معاشی امور کے ماہرین اس دعوے کو تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت کو جاری کھاتوں کا خسارہ کم کرنے میں کامیاب ملی ہے۔ یہ کامیابی ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافے جبکہ درآمدات میں کمی کی صورت میں ملی ہے۔جہاں حکومت نے دیگر کچھ شعبوں میں اپنی کارکردگی بہتر بنائی ہے تو وہیں پیداواری شعبے میں بھی کچھ سیکٹرز میں بہتری آئی ہے جہاں گذشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں پیداوار میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔پیداواری شعبے میں اضافے کے ثمرات عام عوام تک منتقل ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے غریب طبقے کی خوشحالی،نوجوانوں کو روزگار دینے اور خواتین کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں با اختیار بنا کر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے۔کامیاب نوجوان پروگرام،اپنا روزگار اسکیم،قرضوں کی بلا سود فراہمی سمیت مختلف فلاحی منصوبوں اور پروگرامز کا آغاز کیا۔ان پروگرامز کی آج ہر مخالف اور حمایتی انسان تعریف کرنے پر مجبور ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے ان 3 سالوں میں جن منصوبوں کا افتتاح کیا ان میں دیامر بھاشا ڈیم، بی آر ٹی، نوجوان ہنرمند پروگرام، صحت انصاف کارڈ، نیا پاکستان ہاوسنگ پروگرام، پلانٹ فار پاکستان، احساس سیلانی لنگر، ڈیجیٹل پاکستان ویژن،احساس پروگرام،ایک قوم ایک نصاب اور دیگر شامل ہیں،ان پروگرام سے نہ صرف غریب انسان کو روزگار مہیا ہوا بلکہ ملکی معیشت میں بھی بہتری آئی۔

حکومت کی سب سے بڑی کامیابی وزیر اعظم کا "پناہ گاہ" پروگرام ہے۔عمران خان کی کوشش تھی کہ ہم مدینے کی ریاست کے طرز پر پاکستان کو بنائیں اور اس سلسلے میں سب سے اہم قدم پاکستان کے بڑے شہروں میں جگہ جگہ "پناہ گاہ'' پروگرام کے تحت غریب عوام کو چھت فراہم کرنا ہے تا کہ کوئی شخص کھلے آسمان کے نیچے نہ سوئے۔

وزیراعظم عمران خان کا خواب تھا کہ پاکستان میں تعلیمی نظام کو یکساں بنایا جائے اور حال ہی میں اس باقاعدہ اجراء کر دیا گیا جو حکومت پاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ 

سفارتی محاذ پر وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کو جو سفارتی کامیابی ملی وہ پوری دنیا کے سامنے ہے جو  پاکستان کو 70 سال میں بھی نہیں ملی تھی۔ماضی حکومتوں کے رہنماؤں کو بین الاقوامی سطح پر تقریر تو دور کی بات بولنا تک نہیں آتا تھا۔لیکن وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر نے پوری دنیا میں کشمیرکے مسئلے کو ایک نئی شکل دی۔جس طرح انہوں نے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا تذکرہ کیا اور مودی کا فاشسٹ ایجنڈا دنیا کے سامنے رکھا،اس کا بین الاقوامی برادری پر بہت بڑا اثر ہوا۔اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں یہ مسئلہ دو بار آیا اور تاریخ میں ایک بار پھر نئی شکل میں اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا۔