پاکستان میں میڈیکل انشورنس، حائق اور پراپگنڈا | Pakistan Tehreek-e-Insaf

 

میڈیکل انشورنس بارے چند اہم باتیں اور اس کے خلاف ہونے والے بےبنیاد پراپیگنڈہ کا جواب، جو ہمارے لئے جاننا بہت ضروری ہے۔ اور کوشش کریں یہ زیادہ لوگوں تک پہنچ جائے۔
جنوبی کوریا دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے اس کی فی کس آمدنی 47000 ڈالر یعنی پاکستانی 84 لاکھ روپے ہے کوریا میں ایک مزدور کی تنخواہ کم سے کم پاکستانی 3 لاکھ روپے ماہانہ بنتی ہے۔ کوریا آمدنی اور مجموعی سرمائے میں دنیا کا 14 واں امیر ترین ملک ہے۔ 
کوریا جس طرح امیر ہے مہنگائی بھی اسی لحاظ سے بہت زیادہ ہے۔ ملازمت کرنے والا جب تک اوورٹائم نہ کرے اس کا گزارہ کرنا مشکل ہے اور کاروبار کرنے والا جب تک دو بزنس نہ کرے وہ بھی مشکل میں ہے۔ میرا اپنا بھی یہی حال ہے جتنا کماتے ہیں مہینہ کا آخر پھر بھی مشکل میں ہوتا ہے۔ کوریا میں کما کر یہیں فیملی پر خرچ کرنے والے تنگ حالات کا شکار ہیں کوریا کیا دنیا کا کوئی بھی ملک ہو، وہیں کما کر وہیں فیملی پر خرچ کرنے والے مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ فائدہ صرف انہیں ہے جو امیر ملکوں میں کماتے ہیں اور کی فیملی پاکستان میں خرچ کرتی ہے۔
کوریا میں علاج بےانتہا مہنگا ہے کہ اس کی کوئی انتہا نہیں ہے یعنی کائنات کی وسعت کی طرح لاانتہا ہے۔بہت زیادہ کمائی کرنے والا بھی علاج کروانے سے پریشان ہوجاتا ہے، معمولی سی بیماری میں ایک دو ماہ کی کمائی لگ جاتی ہے اور بڑی بیماری پر تو سمجھو ساری جمع پونجی گئی۔ بخار کی دوائی لینے جائیں تو 5000 سے زیادہ لگ جاتے ہیں، ایک دن ہسپتال میں داخل ہونا پڑے تو ایک لاکھ روپے گیا، معمولی آپریشن ہوا تو دو سے تین لاکھ روپے کا خرچہ ہوتا ہے اور کوئی سیریس آپریشن ہو تو دس پندرہ لاکھ روپے لگ جاتے ہیں، انشورنس کے باوجود سب بیماریوں کا علاج نہیں ہوتا اور بہت سارے علاج خود سے کروانے پڑتے ہیں۔
دنیا کا امیر ترین ملک ہونے کے باوجود کورین حکومت مکمل علاج تو کیا عوام کی ایک روپے کی بھی مدد نہیں کرتی۔اس لئے یہاں ہر شخص کی میڈیکل انشورنس لازمی ہوتی ہے اور ہر کوئی ہر ماہ 5 سے 20 ہزار روپے تک انشورنس فیس لازمی دیتا ہے۔ 
مثال کےلئے بتاتا ہوں کہ میری فیملی میں تین فرد میں خود، ماریہ اور ماریہ کی اماں ہیں اور میں ہر ماہ میڈیکل انشورنس پاکستانی 15000 روپے کے قریب فیس دیتا ہوں۔ اس کے باوجود بہت سارے علاج کا خرچہ خود علیحدہ سے کرنا پڑتا ہے اور جو علاج ممکن ہے اس کی بھی ایک حد ہے خرچہ حد سے بڑھ جائے تو باقی پیسے دینے پڑتے ہیں۔
اب پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ دنیا کے امیر ممالک میں پاکستان 147 ویں نمبر پر آتا ہے اس کے باوجود پاکستان تحریک انصاف نے فری علاج کا وہ نظام متعارف کروایا ہے جو دنیا کے صرف ٹاپ کے چند امیر ترین ممالک میں ہے حتی کہ امریکہ انگلینڈ فرانس جرمنی میں بھی نہیں ہے۔
میڈیکل انشورنس میں صرف عوام کا مفت علاج ہی نہیں ہوگا بلکہ اس سے وابستہ بہت سارے نظام بھی ٹھیک ہوں گے۔ میڈیکل انشورنس کا پورا سسٹم کمپیوٹرائزڈ ہوگا یوں عوام کا خاندانی نظام ریکارڈ میں آئے گا، ہر ہسپتال، میڈیکل سٹور، لیباریٹری، ڈاکٹر، میڈیسن کمپنیوں کی کمائی کا حساب سامنے آئے گا اور پہلی بار یہ بھی ٹیکس دینے پر مجبور ہوں گے جس سے اربوں روپے کا ٹیکس جمع ہوگا۔ ہسپتال، ڈاکٹر، لیبارٹریوں کی لوٹ مار ختم ہوجائے گی، دوائیاں بنانے والی کمپنیوں کی ناجائز منافع خوری ختم ہوجائے گی۔
اس کے علاوہ ہر مریض کے معاملات طے کرنے کیلئے ہسپتال اور انشورنس کمپنی میں ہر وقت رابطہ رکھنا ہوگا لہذا ہسپتال اور انشورنس کمپنی نئی ملازم رکھنے پر مجبور ہوں گی، ہر ہسپتال میں دو چار لوگ صرف انہی معاملات کےلئے رکھے جائیں گے اور بڑے ہسپتالوں میں اس سے بھی زیادہ ہوں گے اسی طرح انشورنس کمپنی بھی ہر ہسپتال کےلیے علیحدہ سے ملازم بھرتی کرے گی۔ یوں کم و بیش 50 ہزار نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔ شائد اس سے بھی زیادہ ہوں۔
اس میں فراڈ کے خدشات بہت کم ہیں مگر چونکہ ہم پاکستانی بےایمانی میں چمپئین ہیں اس لئے یہاں بھی کوششیں کی جائیں گی مگر یاد رکھیں اوّل تو فراڈ کرنا کافی مشکل ہوگا۔
کیونکہ مریض اور ہسپتال کا عملہ مل کر انشورنس کمپنی سے فراڈ کرے گا۔
 یا مریض کو پتہ نہیں ہوگا اور اس کے نام پر ہسپتال اور انشورنس کمپنی کا عملہ مل کر انشورنس کمپنی سے فراڈ کرے گا۔
دونوں صورت میں یا  فراڈ کی اور کوئی بھی قسم ہوئی تو یہ حکومت سے فراڈ یا حکومت کا نقصان نہیں ہوگا چاہے کوئی فرد بھی علاج نہ کروائے یا ساری عوام سارا سال ہسپتال میں پڑی رہی، حکومت نے انشورنس کمپنی سے فی بندہ جو ریٹ طے کیا ہے، وہ لازمی طور پر اور صرف اتنا ہی دینا ہے۔ 
اگر کسی بھی قسم کا فراڈ ہوتا ہے جوکہ ممکن ہے ہو، تو یہ انشورنس کمپنی سے فراڈ ہوگا لہذا انشورنس کمپنی اس پر سختی سے نظر رکھے گی۔ یہ فراڈ عوام یا حکومت کا نہیں انشورنس کمپنی کا مسئلہ ہے لہذا عوام کو اور خاص طور پر دانشوروں کو اس فراڈ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس وقت پاکستان میں میڈیکل انشورنس کے نظام کی ابتدائی شکل شروع ہوئی ہے اس میں اگر کوئی کمی یا خامی ہے تو تین چار سال کی پریکٹس میں یہ مکمل ترین شکل اختیار کر جائے گا لہذا پریشان نہ ہوں اور نہ ہی بھولے بھالے سادہ لوگوں کو گمراہ کریں بلکہ لوگوں کو اس نظام سے آگاہی دیں لوگ جتنا زیادہ علم رکھیں گے اتنا زیادہ عوام کو فائدہ ہوگا اور فراڈ کے امکانات کم ہوں گے۔ 
لہذا اس وقت جو دانشور اس کے خلاف بول اور لکھ رہے ہیں، اس سسٹم کو غلط ، فراڈ یا برا کہہ رہے ہیں، وہ اصل میں سیاسی نفرت میں عوام دشمنی پر اترے ہوئے ہیں جبکہ میڈیکل انشورنس کے بےشمار فائدوں میں سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ منکرین صحت کارڈ والوں کا علاج بھی فری ہوگا۔